حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ
حبیب جالب کی شاعری
- آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ
- ایہہ گھنگھرو نہیں زنجیراں نیں
- افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
- بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو
- بہت روشن ہے شام غم ہماری
- بُوٹاں دی سرکار
- چپ کر منڈیا دڑ وٹ
- دس بندیا میں کدھر جاں
- دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
- دھی کمی دی
- ڈھول سپاہی
- دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو
- دیار داغؔ و بیخود شہر دہلی چھوڑ کر تجھ کو
- دنیا ہن پرانی دے نظام بدلے جان گے
- فیض اور فیض کا غم بھولنے والا ہے کہیں
- گھر کے زنداں سے اسے فرصت ملے تو آئے بھی
- گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گی
- ہر گام پر تھے شمس و قمر اس دیار میں
- ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
- اک مجبور عورت دا گیت
- اک شاہ سخن
- اک شاعر سی جالب
- انتخاب
- اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے
- اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
- جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
- جہاں ہیں محبوس اب بھی ہم وہ حرم سرائیں نہیں رہیں گی
- جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گل کہہ جاندا اے
- جمہوریت
- جشن مناو- حبیب جالب
- کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
- کالا سپ ساڈا لہو چوسدا اے
- کراہتے ہوئے انسان کی صدا ہم ہیں
- کیا کیا لوگ گزر جاتے ہیں رنگ برنگی کاروں میں
- کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
- مان بولی
- ماورائے جہاں سے آئے ہیں
- نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
- نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں
- رات کلیہنی
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- شہر ویراں اداس ہیں گلیاں
- اچیاں کندھاں والا گھر سی رولیندے ساں کھل کے
- وچھڑے دل وی مل سکدے نیں
- وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
- یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو
- ظلم دے اگے سارے چپ نے