#اردو شاعری, #ساغر صدیقی وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے ہم بتائیں تو کیا تماشا جنوری 15, 2026 اشتراک کریں