• پیشکش

جیون رکھ نوں ہتھیں تکے نہ مارو

اج جانے کی ضد نہ کرو

حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے

تصویر

غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں

عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا