#نامعلوم ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں رکھے کون یہ حساب، میں تو پیتا ہوں ایک انسان ہوں میں، فرشتہ نہیں جو فرشتے بنیں، ان سے رشتہ نہ مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #نامعلوم غالب نظر کے سامنے حسن و جمال تھا " غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا " محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا ایسا لگ مئی 19, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #نامعلوم آپ کیوں صاحبِ اسرار سمجھتے ہیں مجھے آپ کیوں صاحبِ اسرار سمجھتے ہیں مجھے گھر کے افراد تو بے کار سمجھتے ہیں مجھے آپ کو میں نے کبھی غور سے دیکھا بھی نہیں آپ بھی اپنا طلب گار سمجھتے ہیں مُجھے می ستمبر 30, 2025 اشتراک کریں