• پیشکش

حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو