#قمر جلالوی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی گرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کی دنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی ساقی یہ رقم سچ ہے ج فروری 08, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #قمر جلالوی کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتن جنوری 15, 2026 اشتراک کریں