• پیشکش

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

گھر سے سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ

دل کے سب درد، میرے جسم کے بہانے نکلے

آپ کیوں صاحبِ اسرار سمجھتے ہیں مجھے

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

دل گیا رونق حیات گئی

دست شب پر دکھائی کی دیں گے

نام لینے پے جو محبت کے جو مارے جائیں

کیا حسن نےسمجھا ھے، کیا عشق نےجانا ھے

ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا

پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا

دل کو دل سے راہ ہوئی

حفاطت باغ کی جب باغ کے مالی نہیں کرتے

یتیموں کو نہیں پالا حواری پال رکھے ہیں

رسم وفا پرستی