• پیشکش

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

گھر سے سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ

دل کے سب درد، میرے جسم کے بہانے نکلے

آپ کیوں صاحبِ اسرار سمجھتے ہیں مجھے

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

دل گیا رونق حیات گئی

دست شب پر دکھائی کی دیں گے

نام لینے پے جو محبت کے جو مارے جائیں

کیا حسن نےسمجھا ھے، کیا عشق نےجانا ھے

ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا

پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا