#حبیب جالب ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہ مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#حبیب جالب میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا دیپ جس کا محلات ہی جلے میں چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #حبیب جالب حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ حبیب جالب کی شاعری آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ ایہہ گھنگھرو نہیں زنجیراں نیں افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہ جنوری 19, 2026 اشتراک کریں