#حبیب جالب حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ حبیب جالب کی شاعری آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ ایہہ گھنگھرو نہیں زنجیراں نیں افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہ جنوری 19, 2026 اشتراک کریں