#اردو شاعری, #راحت اندوری گھر سے سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے موت لم دسمبر 30, 2025 اشتراک کریں