#نوید اسلم اے دلِ ناداں! تو بے وجہ خوش گماں کیوں ہے اے دلِ ناداں! تو بے وجہ خوش گماں کیوں ہے بہاروں میں وحشتوں کا یہ سماں کیوں ہے کیوں آرزو میں کسی کی پلکیں بچھائے بیٹھا ہے کیوں دھندلکے ہیں پلکوں میں، آنس اپریل 19, 2026 اشتراک کریں
#نوید اسلم غضب کیا جو ترے کہنے پہ اعتبار کیا سحر تلک ترے آنے کا انتظار کیا چراغِ ہجر جلاتے رہے شب بھر تنہا جلتا عشق رہا، ہر تارے نے اقرار کیا ایک سکوت سا بستا تھا م مارچ 18, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #نوید اسلم رسم وفا پرستی کبھی نہ دستِ ہنر سے کوئی رشتہ ٹوٹنے پایا طاقت کی زباں سے بھی تعلق کو بچا رکھا تھا میں ناداں رہا نازاں فلک تک تھی نگار یار فکر کیا گنج قارون کی متع مایہ اگست 06, 2025 اشتراک کریں