اے دلِ ناداں! تو بے وجہ خوش گماں کیوں ہے

 اے دلِ ناداں! تو بے وجہ خوش گماں کیوں ہے

بہاروں میں وحشتوں کا یہ سماں کیوں ہے


کیوں آرزو میں کسی کی پلکیں بچھائے بیٹھا ہے

کیوں دھندلکے ہیں پلکوں میں، آنسو رواں کیوں ہیں


بے تمنا چمن میں کیوں بلبل بسیرا کرے

بے وقت! پھر بہار کی یہ آرزو کیوں ہے


نہ طلب ہے تو کسی کی، نہ کوئی چاہت باقی

پھر سسکیوں کی یہ ٹھنڈی چھاؤں کیوں ہے


اتنی صدا کے بعد بھی خاموش ہے مقدر

پھر دل میں پہ ہر گھڑی امتحاں کیوں ہے


جب جانتا ہوں ممکن نہیں سراہے جاؤ 

پھر بھی دل اسی پر ہی مہرباں کیوں ہے


نہ ہے کہیں کوئی نوید کہ مقدر کھل جائے گا

پھر دل میں خواہشوں کا یہ دھواں کیوں ہے