دستور

 شاہراہِ دستور پر

سپاہ کی تین کمپنیاں پہرہ دیتی ہیں،

بندوقیں تنی ہوئی ہیں،

سنگینیں چمکتی ہیں،

اور بوٹوں کے نیچے

وہی سڑک ہے

جس کا نام

اب بھی ’’دستور‘‘ ہے۔


مگر یہ سپاہ

دستور کی حفاظت پر مامور نہیں،

یہ ان دروازوں کی نگہبان ہے

جن کے اندر بیٹھے لوگ

دستور کے لفظوں کو

اپنی ضرورت کے مطابق

کاٹتے، موڑتے،

اور پھر قوم کے سامنے

قانون کی جلد میں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں۔


شاہراہِ دستور پر

دستور کو روندنے والوں کی حفاظت کے لیے

تین کمپنیاں کافی ہیں،

مگر دستور کو بچانے کے لیے

ایک شہری کی آواز بھی

ناقابلِ برداشت ہے۔


تم وہاں جا کر

اس کتاب کے حق میں نعرہ نہیں لگا سکتے

جس پر ریاست کی عمارت کھڑی ہونے کا دعویٰ ہے،

تم اس کی کوئی دفعہ بلند آواز سے پڑھو

تو سپاہی تمہاری طرف دیکھتا ہے،

جیسے تم نے کوئی ممنوعہ لفظ بول دیا ہو۔


تم پوچھ نہیں سکتے

کہ اگر دستور زندہ ہے

تو اس کے گھر کے باہر

اتنی بندوقیں کیوں ہیں؟


اور اگر مر چکا ہے

تو اس کی لاش

قوم کے حوالے کیوں نہیں کی جاتی؟


میں شاہراہِ دستور پر جانا چاہتا ہوں،

میرے ہاتھ میں کوئی پتھر نہیں،

کوئی بندوق نہیں،

صرف وہ کتاب ہے

جسے اسکول میں ہمیں بتایا گیا تھا

کہ یہ ملک کا سب سے بڑا قانون ہے۔


میں وہاں کھڑا ہو کر

اس کا نوحہ پڑھنا چاہتا ہوں۔


مگر مجھے بتایا گیا ہے

کہ مرحوم کے جنازے میں

صرف قاتل شریک ہوسکتے ہیں۔


سو شاہراہِ دستور پر

تین کمپنیاں پہرہ دیتی ہیں،

پارلیمان کھڑی ہے،

عدالت کھڑی ہے،

دفتر کھڑے ہیں،

جھنڈا بھی لہرا رہا ہے،


بس دستور نہیں ہے۔


اور سب سے بڑا سرکاری راز یہ ہے

کہ کسی دستوری کو

وہاں جا کر

مرحوم ہو چکے دستور کا

نوحہ پڑھنے کی بھی

اجازت نہیں ہے۔


محمد عامر حسینی

مزید شاعری پڑھیں؛