غضب کیا جو ترے کہنے پہ اعتبار کیا

سحر تلک ترے آنے کا انتظار کیا

چراغِ ہجر جلاتے رہے شب بھر تنہا

جلتا عشق رہا، ہر تارے نے اقرار کیا

ایک سکوت سا بستا تھا مرے ارمانوں میں

نئی امید دِیکر کیوں مجھے بے قرار کیا

تری وفا کے تصور سے جی بہلتا رہا

وگرنہ ہجر نے جینا مرا دشوار کیا

ہر گزرتے پہر کے ساتھ دیے بجھنے لگے

سحر ہوئی تو ہم نے اشکوں کو آبشار کیا

کبھی تو لوٹ کے آتا وہ عہدِ پیماں بھی

ہمیں ترے ہی فریبوں نے تار تار کیا


نوید اسلم