میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے

اجنبی سی ہو مگر غیر نہیں لگتی ہو

وہم سے بھی جو ہو نازک وہ یقیں لگتی ہو

ہائے یہ پھول سا چہرہ، یہ گھنیری زلفیں

میرے شعروں سے بھی تم مجھ کو حسیں لگتی ہو

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے


دیکھ کر تم کو کسی رات کی یاد آتی ہے

ایک خاموش ملاقات کی یاد آتی ہے

ذہن میں حسن کی ٹھنڈک کا اثر جاگتا ہے

آنچ دیتی ہوئی برسات کی یاد آتی ہے

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے


میری آنکھیں پہ جھکی رہتی ہیں پلکیں جس کی

تم وہی میرے خیالوں کی پری ہو کہ نہیں

کہیں پہلے کی طرح پھر تو نہ کھو جاؤ گی

جو ہمیشہ کے لئے ہو وہ خوشی ہو کہ نہیں

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے




ساحر لدھیانوی

مزید پڑھیں؛