سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو

سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو

صرف ہم سے نہیں خود سے بھی جدا لگتی ہو

آنکھ اٹھتی ہے نہ جھکتی ہے کسی کی خاطر

سانس چڑھتی ہے نہ رکتی ہے کسی کی خاطر

جو کسی در پہ نہ ٹھہرے وہ ہوا لگتی ہو

زلف لہرائے تو آنچل میں چھپا لیتی ہو

ہونٹ تھرائے تو دانتوں میں دبا لیتی ہو

جو کبھی کھل کے نہ برسے وہ گھٹا لگتی ہو

جاگی جاگی نظر آئی ہو نہ سوئی سوئی!

تم جو ہو اپنے خیالات میں کھوئی کھوئی

کسی مایوس مصور کی دعا لگتی ہو


ساحر لدھیانوی 

مزید پ؛ڑھیں؛