یہ پربتوں کے دائرے
یہ پربتوں کے دائرے
یہ پربتوں کے دائرے، یہ شام کا دھواں
ایسے میں کیوں نہ چھیڑ دیں دلوں کی داستاں
ذرا سی زلف کھول دو
خزاں میں عطر گھول دو
نظر جو کہہ چکی ہے وہ
بات منہ سے بول دو
کہ جھول اٹھے نگاہ میں بہاروں کا سماں
یہ چپ بھی اک سوال ہے
عجیب دل کا حال ہے
یہ اک خیال کھو گیا
بس اب یہی خیال ہے
یہ رنگ روپ، یہ پون!
چمکتے چاند کا بدن
برا نہ مانو تم اگر!
تو چوم لوں کرن کرن
کہ آج حوصلوں میں ہیں بلا کی گرمیاں!
ساحر لدھیانوی