#نامعلوم اسے کہنا قسم لے لو اُسے کہنا! قسم لے لو تُمہارے بعد جو ہم نے کسی کا خواب دیکھا ہو کسی کو ہم نے چاہا ہو کسی کو ہم نے سوچا ہو کسی کی آرزو کی ہو کسی کی جستجو کی ہو کسی کی راہ دیک اکتوبر 02, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری کون دیکھے میری شاخوں کے ثمر ٹوٹے ہوئے کون دیکھے میری شاخوں کے ثمر ٹوٹے ہوئے گھر سے باہر راستوں میں ہیں شجر ٹوٹے ہوئے لٹ گیا دن کا اثاثہ اور باقی رہ گئے شام کی دہلیز پر لعل و گہر ٹوٹے ہوئے یاد ستمبر 07, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری بہت مشکل ہے پاس لذت درد جگر کرنا بہت مشکل ہے پاس لذت درد جگر کرنا کسی سے عشق کرنا اور وہ بھی عمر بھر کرنا سر محفل ترا وہ پرسش زخم جگر کرنا مری جانب بہ مشکل اک نظر کرنا مگر کرنا یہاں بال ستمبر 02, 2026 اشتراک کریں
#انقلابی شاعری دستور شاہراہِ دستور پر سپاہ کی تین کمپنیاں پہرہ دیتی ہیں، بندوقیں تنی ہوئی ہیں، سنگینیں چمکتی ہیں، اور بوٹوں کے نیچے وہی سڑک ہے جس کا نام اب بھی ’’دستور‘‘ ہے۔ مگر اگست 29, 2026 اشتراک کریں
#تجمل کلیم جیون رکھ نوں ہتھیں تکے نہ مارو جیون رکھ نوں ہتھیں تکے نہ مارو ساہ دے دانے چبو پھکے نہ مارو بال کھڈونے ویہندا اے تے کیہ ہویا آپے ٹُر جاوے گا دھکے نہ مارو جِت لینا تے کھونا اک اگست 03, 2026 اشتراک کریں
#اردو شاعری, #فیاض ہاشمی اج جانے کی ضد نہ کرو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب ا جولائی 26, 2026 اشتراک کریں
#قمر جلالوی حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے حسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے لاکھ پروانہ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہے شغلِ صیاد یہی صبح و شام ہوتا ہے قید ہوتا ہے کوئی، کوئی رہا ہوتا ہے تب پتا چلتا ہے خوشب جولائی 24, 2026 اشتراک کریں
#ابرار ندیم, #پنجابی شاعری غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں ساڈے سارے بھرم گنوا کے راضی ایں اِکو حق سی ساڈا سجناں تیرے تے ساڈے حق تے ڈاکہ پا کے راضی ایں اسی تے تیرے مگروں جِنج وی جون 07, 2026 اشتراک کریں
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیو بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں نیند تو جون 02, 2026 اشتراک کریں
#قمر جلالوی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی گرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کی دنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی ساقی یہ رقم سچ ہے مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#حبیب جالب ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہ مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#حبیب جالب میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا دیپ جس کا محلات ہی جلے میں چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#پنجابی شاعری, #عرفان صادق ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔ ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔ لفظاں اوھلے عہد مرے دے نوہے تردے رہندے نے ۔ کم ظرفے نے، جہڑے شکوہ کردے نے، اک دوجے دا، ہمتاں والے اپنی ہک مئی 27, 2026 اشتراک کریں
#وسیم چیمہ بندہ تھڑک پوے اندازیاں توں بندہ تھڑک پوے اندازیاں توں اندازے بھگتے پیندے نیں ہر حال اچ اپنی کیتیاں دے خمیازے بھگتنے پیندے نیں متاں زخم وسیم نہ گھل جاون پھٹ تازے سیونے پیندے نیں پ مئی 27, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی یہ پربتوں کے دائرے یہ پربتوں کے دائرے یہ پربتوں کے دائرے، یہ شام کا دھواں ایسے میں کیوں نہ چھیڑ دیں دلوں کی داستاں ذرا سی زلف کھول دو خزاں میں عطر گھول دو نظر جو کہہ چکی ہے و مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور ہر وقت مجھے چاہیے اندازِ بیاں اور پھولوں سا کبھی نرم ہے، شعلوں سا کبھی گرم مستانی ادائیں کبھی شوخی ہے کبھی شرم ہر صبح گ مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا کچھ دیر ابھی ہم سے تم یوں ہی خفا رہنا اس حسن کے شعلے کی تصویر بنا لیں ہم ا مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے اجنبی سی ہو مگر غیر نہیں لگتی ہو وہم سے بھی جو ہو نازک وہ یقیں لگتی ہو ہائے یہ پھول سا چہرہ، یہ گھنیری زلفیں میرے مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے اب بات بڑھ چکی ہے حیا کے مقام سے تصویر کھینچ لی ہے ترے شوخ حسن کی میری نظر نے آج خطا کے مقام سے دنیا کو بھول کر مری بان مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو صرف ہم سے نہیں خود سے بھی جدا لگتی ہو آنکھ اٹھتی ہے نہ جھکتی ہے کسی کی خاطر سانس چڑھتی ہے نہ رکتی ہے کسی کی خاطر جو ک مئی 25, 2026 اشتراک کریں