• پیشکش

اے دلِ ناداں! تو بے وجہ خوش گماں کیوں ہے

مینوں دس اوئے سوہنیا ربا

ہنجو رات دے تپکے تریل دے نے

دلا بڑا توں چنگا این

حیاتی دے پینڈے

آہمو سامنے دو دو

ایہہ دنیاں رڑھدی جاندی اے

اے دنیا مثل سراں دی اے

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ

استاد دامن کی شاندار شاعری

چاؤو جے سرداری رکھنا

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

تصویر

ایہہ نئیں کہ میں ہر نئیں سکدا

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ