• پیشکش

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

حبیب جالب کی شاعری کا مجموعہ

استاد دامن کی شاندار شاعری

چاؤو جے سرداری رکھنا

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

ایہہ نئیں کہ میں ہر نئیں سکدا

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

میں تیری تصویر پاڑ دیواں کسے نوں کیہ اے

دِن تے گِن میں مر جانا ای

اکھ کھولی تے دُکھاں دے جال ویکھے

کمال کردا اے

سُکی گِلی ، گِلی سُکی ہووے گی

گھر سے سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ

دل روندا تے کرلاندا اے

دل کے سب درد، میرے جسم کے بہانے نکلے

حالی مر کے کی کرنا ای