• پیشکش

جیون رکھ نوں ہتھیں تکے نہ مارو

اج جانے کی ضد نہ کرو

حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے

تصویر

غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں

عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔

بندہ تھڑک پوے اندازیاں توں

یہ پربتوں کے دائرے

ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور

غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے

شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے

سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں

ساڈے بابے لیکاں چُمیاں، سانوں مت کیہ آؤنی

سمجھدار سیانا اے دل میرا