#ابرار ندیم, #پنجابی شاعری غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں غیراں دے سنگ جھوک وسا کے راضی ایں ساڈے سارے بھرم گنوا کے راضی ایں اِکو حق سی ساڈا سجناں تیرے تے ساڈے حق تے ڈاکہ پا کے راضی ایں اسی تے تیرے مگروں جِن جون 07, 2026 اشتراک کریں
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیو بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں نیند تو جون 02, 2026 اشتراک کریں
#قمر جلالوی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی گرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کی دنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی ساقی یہ رقم سچ ہے مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#حبیب جالب ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہ مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#حبیب جالب میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا دیپ جس کا محلات ہی جلے میں چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں مئی 28, 2026 اشتراک کریں
#پنجابی شاعری, #عرفان صادق ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔ ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔ لفظاں اوھلے عہد مرے دے نوہے تردے رہندے نے ۔ کم ظرفے نے، جہڑے شکوہ کردے نے، اک دوجے دا، ہمتاں والے اپنی ہک مئی 27, 2026 اشتراک کریں
#وسیم چیمہ بندہ تھڑک پوے انازیاں توں بندہ تھڑک پوے اندازیاں توں اندازے بھگتے پیندے نیں ہر حال اچ اپنی کیتیاں دے خمیازے بھگتنے پیندے نیں متاں زخم وسیم نہ گھل جاون پھٹ تازرے بھگتنے پیندے نیں مئی 27, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی یہ پربتوں کے دائرے یہ پربتوں کے دائرے یہ پربتوں کے دائرے، یہ شام کا دھواں ایسے میں کیوں نہ چھیڑ دیں دلوں کی داستاں ذرا سی زلف کھول دو خزاں میں عطر گھول دو نظر جو کہہ چکی ہے و مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور ہر وقت مجھے چاہیے اندازِ بیاں اور پھولوں سا کبھی نرم ہے، شعلوں سا کبھی گرم مستانی ادائیں کبھی شوخی ہے کبھی شرم ہر صبح گ مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا کچھ دیر ابھی ہم سے تم یوں ہی خفا رہنا اس حسن کے شعلے کی تصویر بنا لیں ہم ا مئی 26, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے اجنبی سی ہو مگر غیر نہیں لگتی ہو وہم سے بھی جو ہو نازک وہ یقیں لگتی ہو ہائے یہ پھول سا چہرہ، یہ گھنیری زلفیں میرے مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے اب بات بڑھ چکی ہے حیا کے مقام سے تصویر کھینچ لی ہے ترے شوخ حسن کی میری نظر نے آج خطا کے مقام سے دنیا کو بھول کر مری بان مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو صرف ہم سے نہیں خود سے بھی جدا لگتی ہو آنکھ اٹھتی ہے نہ جھکتی ہے کسی کی خاطر سانس چڑھتی ہے نہ رکتی ہے کسی کی خاطر جو ک مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#ساحر لدھیانوی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے تو اب سے پہلے ستاروں میں بس رہی تھی کہیں تجھے زمیں پہ بلایا گیا ہے میرے لئے کبھی کب مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#نامعلوم ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں رکھے کون یہ حساب، میں تو پیتا ہوں ایک انسان ہوں میں، فرشتہ نہیں جو فرشتے بنیں، ان سے رشتہ نہ مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#افضل ساحر ساڈے بابے لیکاں چُمیاں، سانوں مت کیہ آؤنی ساڈے بابے لیکاں چُمیاں، سانوں مت کیہ آؤنی انگ لمکن ننگی تار تے، وِچ رت کیہ آؤنی اسیں جُھوٹھو جُھوٹھی کھیڈ کے، اِک سچ بنایا فیر اُس نوں دھرمی لہر دا، اِک مئی 25, 2026 اشتراک کریں
#استاد دامن سمجھدار سیانا اے دل میرا سمجھدار سیانا اے دل میرا، ایہنوں صورتاں ساریاں ٹھگدیاں نے ۔ چمکن چن تارے دیوے چاننی دے، کہ چنگیاڑیاں حسن دی اگّ دیاں نے ۔ میں شرابی ہاں، چمن 'چ پھلّ ک مئی 21, 2026 اشتراک کریں
#استاد دامن گھٹ گھٹ پیواں سدا میں جیواں گھٹ گھٹ پیواں سدا میں جیواں، مستی دئے ہلورے ۔ کالیاں سرخ گھٹاواں دسن، دو نیناں دے ڈورے ۔ میئخانے دی لوڑ نہ کائی، بگلے رکھ صراحی ۔ جا باغے وچ کھل کھل ملن، کلی مئی 21, 2026 اشتراک کریں
#عمیر نجمی میرا ہاتھ پکڑ لے پاگل جنگل ہے میرا ہاتھ پکڑ لے پاگل جنگل ہے جتنا بھی روشن ہو جنگل جنگل ہے میں ہوں تم ہو بیلیں پیڑ پرندے ہیں کتنے عرصے بعد مکمل جنگل ہے مجھ میں کوئی گوشہ بھی آباد نہیں جن مئی 20, 2026 اشتراک کریں
#دو سطری شاعری رجواں ہجر اسی عنوان پھر ہنڈایا اسی عنوان پھر ہنڈایا سر اچ کپاہ پھوٹ پئی مئی 20, 2026 اشتراک کریں