ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور
ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور
ہر وقت مجھے چاہیے اندازِ بیاں اور
پھولوں سا کبھی نرم ہے، شعلوں سا کبھی گرم
مستانی ادائیں کبھی شوخی ہے کبھی شرم
ہر صبح گماں اور ہے، ہر رات گماں اور
ملنے نہیں پاتیں ترے جلووں سے نگاہیں!
تھکنے نہیں پاتیں گلے لپٹا کے یہ بانہیں!
چھو لینے سے ہوتا ہے ترا جسم جواں اور!
پلتا ہے ترے حسن کا طوفانِ بہاراں
تو اپنی مثال آپ ہے اے جانِ بہاراں
دنیا کے حسینوں میں نہیں تجھ سا جواں اور
ساحر لدھیانوی