اج جانے کی ضد نہ کرو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جان جاں
بات اتنی مری مان لو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جان جاں
عمر بھر نا ترستے رہو
کتنا معصوم و رنگین ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جان جاں
روک لو آج کی رات کو
فیاض ہاشمی