#اردو شاعری, #فیاض ہاشمی اج جانے کی ضد نہ کرو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب ا جولائی 26, 2026 اشتراک کریں