ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
رکھے کون یہ حساب، میں تو پیتا ہوں
ایک انسان ہوں میں، فرشتہ نہیں
جو فرشتے بنیں، ان سے رشتہ نہیں
کہو اچھا یا خراب، میں تو پیتا ہوں
ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
ہوش مجھ کو رہے تو ستم گھیر لیں
کئی دکھ گھیر لیں، کئی غم گھیر لیں
سہے کون یہ عذاب، میں تو پیتا ہوں
ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
کوئی اپنا اگر ہو تو ٹوکے مجھے
میں غلط کر رہا ہوں تو روکے مجھے
کسے دینا ہے حساب، میں تو پیتا ہوں
ملے جتنی شراب، میں تو پیتا ہوں
مزید پڑھیں؛