• پیشکش

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

ہوکے ماریاں اکھاں دے وچّ پانی بھردے رہندے نے ۔

بندہ تھڑک پوے اندازیاں توں

یہ پربتوں کے دائرے

ہر وقت ترے حسن کا ہوتا ہے سماں اور

غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے